نئی دہلی،2/نومبر (ایس او نیوز/ پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے اسرائیلی اسپائی ویئر پیگاسس کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں پر کی جانے والی جاسوسی کی شدید مذمت کی ہے۔ اس کا انکشاف خود فیس بک کی زیر ملکیت واٹس ایپ نے اسرائیلی سائبر سیکورٹی کمپنی این ایس او پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے واٹس ایپ سرور کا استعمال کرکے 20ممالک میں 1400صارفین کو نشانہ بنایاہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ اس میں ملوث میں لوگوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی اور جاسوسی سے فائدہ اٹھانے والی ایجنسیوں کی تحقیقات کی جائے۔ عبدالمجید ن مزید کہا ہے کہ ممکنہ متاثرین کا ایک خاص حصہ بھیما کورے گاؤں تنازعہ سے وابستہ کارکن یا وکیل اور دلتوں اور قبائلیوں کیلئے کام کرنے والے کارکن دکھائی دیتے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر یہ سچ ہے کہ حکومت ہند نے ہندوستانی شہریوں پر جاسوسی کرنے کیلئے اسرائیلی مدد حاصل کیا ہے تو تب یہ بات واضح ہے کہ ہمارے دفاع کے ساتھ سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے بجائے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد واٹس ایپ کو ذمہ دار ٹہرارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ کے پیغام کو ایک سافٹ ویئر کا استعمال کرکے پڑھا جاسکتا ہے اور اس سافٹ ویئر کا استعمال کرکے اپوزیش پارٹیوں کی جاسوسی کرنے کیلئے بی جے پی نے استعمال کیا تھا۔ این ایس او مذکورہ مہنگے سافٹ ویئر کو صرف سرکاری اداروں کو فروخت کرتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجیدنے الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت نے اسرائیلی کمپنی سے منتخب واٹس ایپ اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کیلئے کہا تھا لیکن جب خبریں باہر آگئیں تو اب اپنے آپ بے گناہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مرکزی حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اس معاملے میں تفصیلات ظاہر کرنے کیلئے واٹس ایپ کو پوچھنے کے بجائے اسرائیلی حکومت سے پوچھ سکتی تھی۔ مودی اور امیت شاہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اچھے دوست ہیں اور یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کو اسرائیلی جاسوسی ایجنسیوں کے ساتھ معلومات بانٹنے کیلئے جانا جاتا ہے۔